Showing posts with label Najadi. Show all posts
Showing posts with label Najadi. Show all posts

Thursday, 26 April 2018

Riyadh Yani Najad Mein Khawarij ka Zahir hona or Un Mein Dajjal ka Nikalna ( Hadiths )

ریاض یعنی نجد میں خوارج کا ظاہر ہونا اور ان میں دجال کا نکلنا

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ کَانَ قَائِمًا عِنْدَ بِابِ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنهما فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ : الْفِتْنَةُ هَاهُنَا حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الخمس، باب : ما جاء في بيوت أزواج النبي صلي الله عليه وآله وسلم وما نسب من البيوت إليهن، 3 / 1130، الرقم : 2937، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 18، الرقم : 4679، والمقرئ في السنن الواردة في الفتن، 1 / 245، الرقم : 42.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بابِ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس کھڑے ہوئے تھے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : فتنہ وہاں سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔‘‘


عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَامَ عِنْدَ بَابِ حَفْصَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ : اَلْفِتْنَةُ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفتن وأشراط الساعة، باب : الفتنة من حيث يطلع قرنا الشيطان، 4 / 2229، الرقم : 2905.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بابِ حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس کھڑے ہوئے تھے۔ اپنے دستِ اقدس سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : فتنہ وہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ (کلمات) دو یا تین مرتبہ ادا فرمائے۔‘‘


عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : اَللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي شَامِنَا وَ يَمَنِنَا مَرَّتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ : وَ فِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مِنْ هُنَالِکَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ وَلَهَا تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 90، الرقم : 5642، والطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 249، الرقم : 1889، والروياني في المسند، 2 / 421، الرقم : 1433، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 57، وقال : رجال أحمد رجال عبدالرحمن بن عطاء وهو ثقة.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اﷲ! ہمارے لئے ہمارے شام میں اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما اور ایسا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا : تو ایک آدمی نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! اور ہمارے مشرق میں (بھی برکت ہو) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہاں سے تو شیطان کا سینگ نکلے گا اور وہاں دس میں سے نو حصوں (کے برابر) شر ہو گا۔‘‘


عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲَ صلي الله عليه وآله وسلم عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها يَدْعُوْ : اَللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَ بَارِکْ لَنَا فِي شَامِنَا وَ يَمَنِنَا ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْمَشْرِقَ فَقَالَ : مِنْ هَاهُنَا يَخْرُجُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ وَالزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَمِنْ هَاهُنَا الْفَدَّادُوْنَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 252، الرقم : 7421، وأبونعيم في المسند المستخرج، 4 / 44، الرقم : 3183.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ کے قریب دعا کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : ’’اے اللہ! ہمارے مد اور ہمارے صاع (مد اور صاع غلہ ماپنے کے دو آلے ہیں) میں برکت ڈال اور ہمارے شام اور یمن میں برکت عطا فرما، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرق رخ ہو گئے اور فرمایا : یہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا اور (یہیں سے) زلزلے اور فتنے ظاہر ہوں گے اور یہیں سے سخت گفتار، تکبر کے ساتھ چلنے والے (لوگ ظاہر) ہوں گے۔‘‘


عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهم قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّي عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَي عَشْرَةِ مَرَّاتٍ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّي يَخْرُجُ الدَّجَّالَ فِي بَقِيَتِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 198، الرقم : 6871، والحاکم في المستدرک، 4 / 533، الرقم : 8497، وابن حماد في الفتن، 2 / 532، وابن راشد في الجامع، 11 / 377، والآجري في الشريعة، 1 / 113، الرقم : 260، والهيثمي في مجمع الزوائد، 6 / 228.

’’حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھم روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میری امت میں مشرق کی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نہیں اترے گا اور ان میں سے جو بھی (شیطان کے) سینگ کی (صورت) میں نکلے گا وہ کاٹ دیا جائے گا۔ ان میں سے جو بھی (شیطان کے) سینگ کی صورت میں نکلے گا کاٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ہی دس دفعہ سے بھی زیادہ بار دہرایا اور فرمایا : ان میں جو بھی (شیطان کے) سینگ کی صورت میں ظاہر ہو گا کاٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ ان ہی کی باقی ماندہ نسل سے دجال نکلے گا۔‘‘









Sunday, 22 April 2018

Kharijiu Ki Alamat ( Hadiths )

خارجیوں کی علامات۔
روایات میں ان فتنہ پرور خارجیوں کی متعدد معروف علامات اور واضح نشانیاں بیان فرمائی گئی ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے :

1. أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

’’وہ کم سن لڑکے ہوں گے۔‘‘

2. سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

’’دماغی طور پر ناپختہ (brain washed) ہوں گے۔‘‘

3. کَثُّ اللِّحْيَةِ.

1. بخاري، الصحيح، کتاب المغازي، باب بعث علی بن أبي طالب وخالد بن الوليد إلی اليمن قبل حجة الوداع، 4 : 1581، رقم : 4094
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 742، رقم : 1064

’’(دین کے ظاہر پر عمل میں غلو سے کام لیں گے اور) گھنی ڈاڑھی رکھیں گے۔‘‘

4. مُشَمَّرُ الْإِزَارِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب المغازی، باب بعث علی ابن أبی طالب و خالد بن الوليد، إلی اليمن قبل حجة الوداع، 4 : 1581، رقم : 4094
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 742، رقم : 1064

’’بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے۔‘‘

5. يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ.

بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قراء ة الفاجر والمنافق وأصواتهم وتلاوتهم لا تجاوز حناجرهم، 6 : 2748، رقم : 7123

’’یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے۔‘‘

6. لَا يَزَالُوْنَ يَخْرُجُوْنَ حَتّٰی يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ.

نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب من شهر سيفه ثم وضعه في الناس، 7 : 119، رقم : 4103

’’یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔‘‘

یعنی یہ خوارج دجّال کی آمد تک تاریخ کے ہر دور میں وقتاً فوقتاً ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔

7. لَا يُجَاوِزُ إِيْمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

’’ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔‘‘

یعنی ان کا ایمان دکھلاوا اور نعرہ ہوگا، مگر اس کے اوصاف ان کے فکر و نظریہ اور کردار میں دکھائی نہیں دیں گے۔

8. يَتَعَمَّقُوْنَ وَيَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَةِ.

1. أبويعلی، المسند، 1 : 90، رقم : 90
2. عبد الرزاق، المصنف، 10 : 155، رقم : 18673

’’وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہاء پسند ہوں گے۔‘‘

9. يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب من ترک قتال الخوارج للتألف وأن لا ينفر الناس عنه، 6 : 2540، رقم : 6534
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 744، رقم : 1064

’’تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا۔‘‘

10. لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ.

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

’’نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘

یعنی نماز کا کوئی اثر ان کے اخلاق و کردار پر نہیں ہوگا۔

11. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرائَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَ تِهِمْ بِشَيءٍ.

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

’’وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی۔‘‘

12. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ.

1. بخاری الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2540، رقم : 6532
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وقتالهم، 2 : 743، رقم : 1064

’’ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘

یعنی اس کا کوئی اثر ان کے دل پر نہیں ہوگا۔

13. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ.

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا۔‘‘

14. يَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ اﷲِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ.

أبو داود، السن، کتاب السنة، باب في قتل الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765

’’وہ (بذریعہ طاقت) لوگوں کو کتاب اﷲ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا۔‘‘

15. يَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

’’وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے۔‘‘

یعنی دینی نعرے (slogans) بلند کریں گے اور اسلامی مطالبے کریں گے۔

(1) جیسے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں خوارج نے لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلّٰهِ کا پُر کشش نعرہ لگایا تھا۔

16. يَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا.

طبراني، المعجم الأوسط، 6 : 186، الرقم : 6142

’’ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی۔‘‘

17. يُسِيْئُوْنَ الْفِعْلَ.

أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765

’’مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔‘‘

18. هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ.

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب الخوارج شر الخلق والخليقة، 2 : 750، الرقم : 1067

’’وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے۔‘‘

19. يَطْعَنُوْنَ عَلٰی أُمَرَائِهِمْ وَيَشْهَدُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ.

1. ابن أبي عاصم، السنة، 2 : 455، رقم : 934
2. هيثمي، مجمع الزوائد، 6 : 228، وقال : رجاله رجال الصحيح.

’’وہ حکومت وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتويٰ لگائیں گے۔‘‘

20. يَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِيْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، 3 : 1321، رقم : 3414
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 744، رقم : 1064

’’وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا۔‘‘

21. يَقْتُلُوْنَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدْعُوْنَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول اﷲ تعالی : تعرج الملائکة والروح إليه، 6 : 2702، رقم : 6995
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 741، رقم : 1064

’’وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔‘‘

22. يَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ.

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

’’وہ ناحق خون بہائیں گے۔‘‘

یعنی مسلم اور غیر مسلم افراد کا قتل جائز سمجھیں گے۔

23. يَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَيَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنَ اﷲِ وَيَسْتَحِلُّوْنَ أَهْلَ الذِّمَّةِ. (من کلام عائشة رضي اﷲ عنها)

حاکم، المستدرک، 2 : 166، رقم : 2657

’’وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا اﷲ تعاليٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے۔‘‘ (یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔)

24. يُؤْمِنُونَ بِمُحْکَمِهِ وَيَهْلِکُونَ عِنْد مُتَشَابِهه. (قول ابن عباس رضی الله عنه).

1. طبری، جامع البيان فی تفسير القرآن، 3 : 181
2. عسقلاني، فتح الباری، 12 : 300

’’وہ قرآن کی محکم آیات پر ایمان لائیں گے جبکہ اس کی متشابہات کے سبب سے ہلاک ہوں گے۔‘‘ (قولِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ)

25. يَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. (قول علي رضی الله عنه)

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 749، الرقم : 1066

’’وہ زبانی کلامی حق بات کہیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘ (قولِ علی رضی اللہ عنہ)

26. ينْطَلِقُوْنَ إِلَی آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَيَجْعَلُوْهَا عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ. (من قول ابن عمر رضی الله عنه)

بخاری، الصحيح، کتاب، استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539

’’وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں۔‘‘ (قولِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مستفاد)

27. يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

’’وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘

28. اَلْأَجْرُ الْعَظِيْمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ.

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

’’ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا۔‘‘

29. خَيْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوْهُ.

ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000

’’وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے۔‘‘

30. شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ أَدِيْمِ السَّمَاءِ.

ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000

’’وہ آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہوں گے۔‘‘

یعنی جو دہشت گرد خوارج فوجی سپاہیوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے تو وہ بدترین مقتول ہوں گے اور انہیں مارنے والے جوان بہترین غازی ہوں گے۔

31. إِنَّهُمْ کِلَابُ النَّارِ.

ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000

’’یہ (دہشت گرد خوارج) جہنم کے کتے ہوں گے۔‘‘

32۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی اور اس کا خون اور مال حلال قرار دیں گے۔

33۔ ظالم اور فاسق حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو فرض قرار دیں گے۔

1. عبد القاهر بغدادی، الفرق بين الفرق : 73
2. ابن تيميه، مجموع فتاوی، 13 : 31

34۔ خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ کسی مخصوص علاقے کو گھیر کر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے مرکز بنا لیں گے، جیسے کہ انہوں نے خلافت علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ میں حروراء کو اپنا مرکز بنا لیا تھا یعنی وہ اپنے لئے محفوظ پناہ گاہیں بنائیں گے۔

35۔ خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اہلِ حق کے ساتھ مذاکرات کو ناپسند کریں گے، جس طرح انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تحکیم کو مسترد کر دیا تھا۔