Showing posts with label Fazail. Show all posts
Showing posts with label Fazail. Show all posts

Sunday, 15 April 2018

Fazail e Hazrat Ali Radhi Allah Anho ( By Hadths )



عَنْ أَبِي رَافِعٍ رضي الله عنه مَوْلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رضي الله عنه حِيْنَ بَعَثَهُ رَسُوْلُ اﷲِ بِرَأْيَتِهِ، فَلَمَّا دًنَا مِنَ الْحِصْنِ، خَرَجَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ فقَاتَلَهُمْ، فَضَرَبَهُ رَجُلٌ مِنْ يَهُوْدٍ فَطَرَحَ تُرْسَهُ مِنْ يَدِهِ، فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ رضي الله عنه بَابًا کَانَ عِنْدَ الْحِصْنِ، فَتَرَّسَ بِهِ نَفْسَهُ، فَلَمْ يَزَلْ فِي يَدِهِ وَهُوَ يُقَاتِلُ حَتَّي فَتَحَ اﷲُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَلْقَاهُ مِنْ يَدَيْهِ حِيْنَ فَرَغَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي نَفَرٍ مَعِي سَبْعَةٌ أَنَا ثَامِنُهُمْ، نَجْهَدُ عَلَي أَنْ نَقْلِبَ ذَلِکَ الْبَابَ فَمَا نَقْلِبُهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، ، 6 / 8، الرقم : 23909، والهيثمي في مجمع الزوائد، 6 / 152، والطبري في تاريخ الأمم والملوک، 2 / 137، وابن هشام في السيرة النبوية، 4 / 306.

’’حضرت ابورافع جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے روایت فرماتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جھنڈا دے کر خیبر کی طرف روانہ کیا تو ہم بھی ان کے ساتھ تھے جب ہم قلعہ خیبر کے پاس پہنچے جو مدینہ منورہ کے قریب ہے تو خیبر والے اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے۔ آپ بے مثال بہادری کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ اچانک ان پر ایک یہودی نے چوٹ کر کے ان کے ہاتھ سے ڈھال گرا دی۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ کا ایک دروازہ اکھیڑ کر اپنی ڈھال بنا لیا اور اسے ڈھال کی حیثیت سے اپنے ہاتھ میں لئے جنگ میں شریک رہے۔ بالآخر دشمنوں پر فتح حاصل ہوجانے کے بعد اس ڈھال نما دروازہ کو اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اس سفر میں میرے ساتھ سات آدمی اور بھی تھے اور ہم آٹھ کے آٹھ مل کر اس دروازے کو الٹنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ہم وہ دروازہ (جسے حضرت علی نے تنہا اکھیڑا تھا) نہ الٹ سکے۔‘‘


عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه أَنَّ عَلِيًا رضي الله عنه حَمَلَ الْبَابَ يَوْمَ خَيْبَرٍ حَتَّي صَعِدَ الْمُسْلِمُوْنَ فَفَتَحُوْهَا وَأَنَّهُ جُرِّبَ فَلَمْ يَحْمِلْهُ إِلاَّ أَرْبَعُوْنَ رَجُلًا.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَقَالَ الْعَسْقَلاَنِيُّ : رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

أخرجه ابن أبي أبي شيبة في المصنف، 6 / 374، الرقم : 32139، والعسقلاني في فتح الباري، 7 / 478، والطبري في تاريخ الأمم والملوک، 2 / 137، وابن هشام في السيرة النبوية، 4 / 306.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ غزوہ خیبر کے روز حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ خیبر کا دروازہ اٹھالیا یہاں تک کہ مسلمان قلعہ پر چڑھ گئے اور اسے فتح کرلیا اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ اس دراوزے کو چالیس آدمی مل کر ہی اٹھا سکتے تھے۔‘‘


عَنْ زَادَانَ رضي الله عنه أَنَّ عَلِيًا رضي الله عنه حَدَّثَ حَدِيْثًا فَکَذَّبَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رضي الله عنه : أَدْعُوْ عَلَيکَ إِنْ قُلْتَ کَاذِبًا قَالَ : أُدْعُ فَدَعَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْرَحْ حَتَّي ذَهَبَ بَصَرُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 219، الرقم : 1791، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 116، واللالکائي في کرامات الأولياء، 1 / 126، الرقم : 73.

’’زادان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گفتگو فرمائی تو ایک شخص نے انہیں جھٹلایا اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو نے جھوٹ بولا ہو تو میں تجھے بددعا دوں؟ اس نے کہا : ہاں بددعا کریں چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے بددعا کی تو وہ شخص ابھی اس مجلس سے اٹھنے بھی نہ پایا تھا کہ اندھا ہو گیا۔‘‘


عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : خَطَبَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رضي اﷲ عنهما حِيْنَ قُتِلَ عَلِيٌّ رضي الله عنه فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْکُوفَةِ أَوْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ لَقَدْ کَانَ بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ رَجُلٌ قُتِلَ اللَّيْلَةَ أَوْ أُصِيْبَ الْيَوْمَ لَمْ يَسْبِقْهُ الْأَوَّلُوْنَ بِعِلْمٍ وَلَا يُدْرِکْهُ الآخَرُوْنَ کَانَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم إِذَا بَعَثَهُ فِي سَرِيَةٍ کَانَ جِبْرِيْلُ عليه السلام عَنْ يَمِيْنِهِ وَمِيْکَايِلُ عليه السلام عَنْ يَسَارِهِ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّي يَفْتَحَ اﷲُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 369، الرقم : 32094، والهندي في کنزالعمال، 6 / 412.

’’حضرت عاصم بن ضمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا : اے اہل کوفہ ! (یا فرمایا : ) اے اہل عراق! آج تمہارے درمیان وہ شخص شہید کر دیا گیا جس سے علم میں (امت کے) اولین بھی سبقت نہیں کر سکے اور آخرین میں سے بھی کوئی ان کے مقام کو نہ پہنچ سکے گا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی جہاد کی مہم پر روانہ فرماتے تو ان کی دائیں طرف حضرت جبرئیل اور بائیں طرف میکائیل علیھما السلام رہا کرتے تھے اور وہ کبھی بھی فتح حاصل بغیر کئے نہیں لوٹتے تھے۔‘‘

Fazail e Hazrat Usman e Ghani Radhi Allah Anho ( By Hadiths )



عَنْ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ في رواية طويلة قُتِلَ عُثْمَانُ رضي الله عنه وَإِنَّ رَأْسَهُ عَلَي الْبَابِ لَيَقُوْلُ : طُقْ طُقْ حَتَّي صَارُوْا بِهِ إِلَي حَشِّ کَوْکَبٍ فَاحْتَفَرُوا لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 1 / 78، الرقم : 109، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 39 / 532، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 95، وابن عبد البر في الاستيعاب، 3 / 1047، وابن سعد في الطبقات الکبري، 3 / 77، والمزي في تهذيب الکمال، 19 / 457، والعسقلاني في تلخيص الحبير، 2 / 145.
’’حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت میں مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اور دروازے پر ہی ان کا سر مبارک پکار رہا تھا : مجھے دفن کرو، مجھے دفن کرو چنانچہ ان کے ساتھی ان کی نعش مبارک کو باغِ کوکب میں لے گئے جہاں انہوں نے آپ کی تدفین کی۔‘‘


عَنْ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : وَکَانَ عُثْمَانُ رضي الله عنه يَمُرُّ بِحَشِّ کَوْکَبٍ فَيَقُوْلُ لَيُدْفَنُ رَجُلٌ صَالِحٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 1 / 78، الرقم : 109، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 39 / 532، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 95، وابن عبدالبر في الاستيعاب، 3 / 1047، وابن سعد في الطبقات الکبري، 3 / 77، والمزي في تهذيب الکمال، 19 / 457.
’’حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ باغِ کوکب کے پاس سے گذرتے تو فرماتے کہ یہاں ایک نیک انسان دفن کیا جائے گا (چنانچہ وہ خود اسی جگہ دفن کیے گئے)۔‘‘


عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ رضي الله عنه أَصْبَحَ فَحَدَّثَ فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فِي الْمَنَامِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ : يَا عُثْمَانُ أَفْطِرْ عِنْدَنَا فَأَصْبَحَ عُثْمَانُ رضي الله عنه صَائِمًا فَقُتِلَ مِنْ يَوْمِهِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
782 / 38. وفي رواية : عَنِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ قَالَتْ : قَالَ : رَأَيْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالُوْا : إِنَّکَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ سَعْدٍ.

أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 110، الرقم : 4554، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 181، الرقم : 30510 - 30511 : 7 / 442، الرقم : 37085، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 232، وابن سعد في الطبقات الکبري، 3 / 74، وابن حيان في طبقات المحدثين بأصبهان، 2 / 298، الرقم : 182، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 39، 384.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے (اپنی شہادت کے) دن صبح ہوئی تو فرمایا : میں نے رات کو دیکھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان! آج کا روزہ تم ہمارے پاس افطار کرو گے۔ سو اس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا اور اسی دن انہیں شہید کر دیا گیا۔‘‘
’’ایک روایت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا وہ سب مجھے کہہ رہے تھے : (اے عثمان!) آج رات تمہاری افطاری ہمارے ساتھ ہے۔‘‘


عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ يَسَارِ رضي الله عنه أَنَّ جَهْجَاهَ الْغَفَارِيَّ أَخَذَ عَصَا عُثْمَانَ الَّتِي يَتَخَصَّرُ بِهَا فَکَسَرَهَا عَلَي رَکْبَتِهِ فَوَقَعَتْ فِي رَکْبَتِهِ الآکِلَةُ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَاللَّالْکَائِيُّ.

أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 39 / 329، واللالکائي في کرامات الأولياء، 1 / 124، الرقم : 70، وابن عبد البر في الاستيعاب، 1 / 269، والرازي في التفسير الکبير، 21 / 88.

’’حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ جھجاہ الغفاری نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عصا جس پر ٹیک لگائے تھے اپنے گھٹنے پر رکھ کر(گستاخی کے ساتھ) توڑ دیا تو اس کے گھٹنے پر پھوڑا نکل آیا۔‘‘

Fazail e Hazrat Umer Farooq Radhi Allah Anho ( by Hadiths )



عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : مَا سَمِعْتُ عُمَرَ لِشَيءٍ قَطُّ يَقُوْلُ : إِنِّي لَأَظُنُّهُ کَذَا إِلَّا کَانَ کَمَا يَظُنُّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

 أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : إسلامُ عمرَ بنَ الخطابِ رضي الله عنه، 3 / 1403، الرقم : 3653، والحاکم في المستدرک، 3 / 94، الرقم : 4503، واللالکائي في کرامات الأولياء، 1 / 119، الرقم : 65، والنووي في رياض الصالحين، 1 / 568، الرقم : 1510.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھماسے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسی بات نہیںسنی جس کے متعلق انہوں نے فرمایا ہو کہ میرے خیال میں یہ اس طرح ہے اور وہ ان کے خیال کے مطابق نہ نکلی ہو۔‘‘


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لَقَدْکَانَ فِيْمَا قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ مُحَدَّثُوْنَ، فَإِنْ يَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عَمَرُ أَي مُلْهَمُوْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ رِوَايَةِ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها.
وقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
وفي رواية : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالُوْا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! کَيْفَ مُحَدَّثٌ؟ قَالَ : تَتَکَلَّمُ الْمَلَائِکَةُ عَلَي لِسَانِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : مناقب عمر بنَ الخطَّابِ رضي الله عنه، 3 / 1349، الرقم : 3486، وفي کتاب : الأنبياء، باب : أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْکَهْفِ وَالرَّقِيْمِ : (الکهف : 9)، 3 / 1279، الرقم : 3282، ومسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل عمر رضي الله عنه، 4 / 1864، الرقم : 2398، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : في مناقب عمر بن الخطاب رضي الله عنه، 5 / 622، الرقم : 3693، وابن حبان في الصحيح، 15 / 317، الرقم : 6894، والحاکم في المستدرک، 3 / 92، الرقم : 4499، وقال : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 55، الرقم : 24330، والبيهقي في شعب الإيمان، 5 / 48، الرقم : 5734، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 18، الرقم : 6726، والديلمي في مسند الفردوس، 3 / 278، الرقم : 4839، وابن راهويه في المسند، 2 / 479، الرقم : 1058، والحکيم الترمذي في نوادر الأصول، 3 / 138، والنووي في رياض الصالحين، 1 / 564، الرقم : 1504، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 69، والبيهقي في الاعتقاد، 1 / 315، والعسقلاني في فتح الباري، 7 / 50، والمبارکفوري في تحفة الأهوذي، 10 / 125.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن کے دل میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے باتیں القاء کی جاتی تھیں (یعنی انہیں الہام ہوتا تھا) اور میری امت میں اگر کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہے۔‘‘

’’اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں بیان کیا کہ صحابہ کرام نے پوچھا : (یا رسول اﷲ!) اس الہام کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی زبان پر فرشتے بولتے ہیں۔‘‘


عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَي شَيَاطِيْنِ الإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوْا مِنْ عُمَرَ.
وفي رواية : قَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ (أَوْ لَيَفْرَقُ) مِنْکَ يَا عُمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : في مناقب عمر بن الخطاب رضي الله عنه، 5 / 621، الرقم : 3690، 3691، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 309، الرقم : 5957، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 353، الرقم : 23039، وفي فضائل الصحابة، 1 / 333، الرقم : 480، وابن حبان في الصحيح، 10 / 231، الرقم : 4386، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 77.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں جنات و انسانوں کے شیاطین کو دیکھتا ہوں کہ وہ عمر کے خوف سے بھاگ گئے ہیں۔
اور ایک روایت میں فرمایا : اے عمر! تم سے شیطان ڈرتا ہے۔‘‘


عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَي سَارِيَةَ، فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ فَجَعَلَ يَصِيْحُ : يَاسَارِيُّ الْجَبَلَ. فَقَدِمَ رَسُوْلٌ مِنَ الْجَيْشِ فَقَالَ : يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِينَ! لَقِيْنَا عَدُوَّنَا فَهَزَمُوْنَا فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيْحُ : يَا سَارِيُّ الْجَبَلَ. فَأَسْنَدْنَا ظُهُوْرَنَا إِلَي الْجَبَلِ فَهَزَمَهُمُ اﷲُ تَعَالَي. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي الْفَضَائِلِ وَالْبَيْهَقِيُّ وَأَبُوْنُعَيْمٍ.

أخرجه أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 219، الرقم : 355، والبيهقي في دلائل النبوة، 6 / 370، وفي الإعتقاد، 1 / 314، وأبونعيم في دلائل النبوة، 3 / 210 - 211، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 410، الرقم : 5954، والرازي في التفسير الکبير، 21 / 87.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا سالار ایک شخص کو مقرر کیا جس کا نام ساریہ تھا۔ ایک دن آپ خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک دوران خطبہ آپ نے پکارا : اے ساریہ! پہاڑ کی اوٹ لو۔ (جنگ کے بعد) لشکر سے ایک قاصد آیا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین! ہم دشمن سے لڑ رہے تھے اور قریب تھا کہ وہ ہمیں شکست دے دے پھر اچانک کسی پکارنے والے نے پکارا : اے ساریہ! پہاڑ کی اوٹ لو۔ ہم نے اپنی پیٹھیں پہاڑ کی طرف کرلیں تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں شکست (اور ہمیں فتح عطا) کی۔‘‘


عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَمَّنْ حَدَّثَهُ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مِصْرُ أَتَي أَهْلُهَا إِلَي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه حِيْنَ دَخَلَ بُوْنَةَ مِنْ أَشْهُرِ الْعَجَمِ. فَقَالُوْا : أَيُّهَا الْأَمِيْرُ إِنَّ لِنِيْلِنَا هَذَا سُنَّةً لاَ يَجْرِي إِلاَّ بِهَا. فَقَالَ : وَمَا ذَاکَ؟ قَالُوْا : إِذَا کَانَ ثَنَتَا عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَوْنَ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ عَمَدْنَا إِلَي جَارِيَةٍ بِکْرٍ مِنْ أَبَوَيْهَا فَأَرَضَيْنَا أَبَوَيْهَا وَجَعَلْنَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ وَالثِّيَابِ أَفْضَلُ مَا يَکُوْنُ ثُمَّ أَلْقَيْنَاهَا فِي هَذَا النِّيْلِ. فَقَالَ لَهُمْ عَمْرٌو رضي الله عنه : إِنَّ هَذَا مِمَّا لاَ يَکُوْنُ فِي الإِسْلاَمِ إِنَّ الإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَهُ. قَالَ : فَأَقَامُوْا بُوْنَةَ وَأَبِيْبَ وَمَسْرَي وَالنِّيْلُ لَا يَجْرِي قَلِيْلًا وَلَا کَثِيْرًا حَتَّي هَمُّوْا بِالْجِلَاءِ فَلَمَّا رَأَي ذَلِکَ عَمْرٌوصکَتَبَ بِذَلِکَ إِلَي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، فَکَتَبَ إِنَّکَ قَدْ أَصَبْتَ بِالَّذِي فَعَلْتَ وَإِنَّ الإِسْلَامَ يَعْتَدِمُ مَا قَبْلَهُ وَإِنِي قَدْ بَعَثْتُ إِلَيْکَ بِبِطَاقَةٍ دَاخِلَ کِتَابِي هَذَا فَأَلْقِهَا فِي النِّيْلِ. فَلَمَّا قَدِمَ کِتَابُ عُمَرَ رضي الله عنه إِلَي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه، وأَخَذَ الْبِطَاقَةَ فَفَتَحَهَا فَإِذَا فِيْهَا : مِنْ عَبْدِ اﷲِ عُمَرَ أَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ إِلَي نِيْلِ مِصْرَ أَمَّا بَعْدُ! فَإِنْ کُنْتَ إِنَّمَا تَجْرِي مِنْ قِبَلِکَ فَلَا تَجْرِ وَإِنْ کَانَ اﷲُ الْوَاحِدُ الْقَهَارُ هُوَ الَّذِي يُجْرِيْکَ فَنَسْأَلَ اﷲَ الْوَاحِدَ الْقَهَارَ أَنْ يُجْرِيَکَ. قَالَ : فَأَلْقَي الْبِطَاقَةَ فِي النِّيْلِ فَلَمَّا أَلْقَي الْبِطَاقَةَ أَصْبَحُوْا يَوْمَ السَّبْتِ وَقَدْ أَجْرَاهُ اﷲُ تَعَالَي سِتَّةَ عَشَرَ ذِرَاعًا فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ وَقَطَعَ اﷲُ تَعَالَي تِلْکَ السُّنَّةَ عَنْ أَهْلِ مِصْرَ إِلَي الْيَوْمِ.
رَوَاهُ اللَّالْکَائِيُّ وَالْقُرْطَبِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ وَأَبُوْالشَّيْخِ فِي کِتَابِ الْعَظَمَةِ.

أخرجه اللالکائي في کرامات الأولياء، 1 / 119، الرقم : 66، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 13 / 103، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 465، والرازي في التفسير الکبير، 21 / 88، والحموي في معجم البلدان، 5 / 335.

’’حضرت قیس بن حجاج روایت کرتے ہیں اس سے جس نے انہیں بتایا کہ مصر فتح ہونے کے بعد اہل مصر (گورنر مصر) حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب عجمی مہینہ بونہ شروع ہوا۔ اور عرض کیا : اے امیر! ہمارے اس دریائے نیل کا ایک معمول ہے جس کی تعمیل کے بغیر اس میں روانی نہیں آتی۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بتاؤ تو وہ کیا معمول ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جب اس مہینہ کی بارہ تاریخ آتی ہے تو ہم ایک کنواری لڑکی اس کے والدین کی رضا مندی سے حاصل کرتے ہیں اور پھر اسے عمدہ سے عمدہ زیورات اور کپڑے پہنا کر اس دریائے نیل کی نذر کر دیتے ہیں۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ سب کچھ اسلام میں نہیں ہوگا۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی تمام (بے ہودہ) رسوم کو ختم کرتا ہے۔ (راوی نے) کہا : اہل مصر بونہ، ابیب اور مَسرِی تین ماہ تک اس حکم پر قائم رہے۔ نیل کی روانی رُکی رہی پانی کا قطرہ نہ رہا۔ دریائے نیل کی روانی کو بند دیکھ کر لوگوں نے ترک وطن کا ارادہ کیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے تمام حالات کی امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ اے عمرو بن عاص! تم نے جو کچھ کیا درست کیا۔ اسلام نے سابقہ (بے ہودہ) رسوم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ میں اپنے اس خط کے اندر ایک رقعہ بھیج رہا ہوں۔ اسے دریائے نیل میں ڈال دینا۔ پس جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خط حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو انہوں نے اس خط کو کھولا تو اس میں درج ذیل عبارت تھی۔’’اﷲ تعالیٰ کے بندے امیرالمومنین عمر کی طرف سے مصر کے دریائے نیل کے نام! حمدو صلاۃ کے بعد (اے دریا) اگر تو اپنی مرضی سے بہتا ہے تو ہرگز نہ بہہ! اور اگر اﷲ واحدو قہار ہی تجھے رواں کرتا ہے تو ہم خداوندِ واحد و قہار سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تجھے جاری کر دے۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے وہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیا۔ جب رقعہ ڈالا ہفتہ کے دن صبح لوگوں نے دیکھا کہ ایک رات میں اﷲ تعالیٰ نے سولہ ہاتھ (پہلے سے بھی) اونچا پانی دریائے نیل میں جاری فرما کر اہل مصر سے اسی دن سے آج تک اس قدیم ظالمانہ رسم کو ہمیشہ کے لیے ختم فرما دیا۔‘‘

Fazail e Hazrat Abu Bakar Sadeeq Radhi Allah Anho ( By Hadiths )

عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها زَوْجِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهَا قَالَتْ : إِنَّ أَبَابَکْرٍ الصِّدِّيْقَ رضي الله عنه کاَنَ نَحَلَهَا جَادَّ عِشْرِيْنَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ بِالْغَابَةِ. فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ : وَاﷲِ يَا بُنَيَةُ مَامِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ غِنًي بَعدِي مِنْکِ وَلاَ أَعَزُّ عَلَيَّ فَقْرًا بَعْدِي مِنْکِ. وَإِنِّي کُنْتُ نَحَلْتُکِ جَادَّ عِشْرِيْنَ وَسْقًا. فَلَوْکُنْتِ جَدَدْتِيْهِ وَاحْتَزْتِيْهِ کَانَ لَکِ وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ وَارِثٍ. وَإِنَّمَا هُوَ أَخَوَاکِ وأُخْتَاکِ. فَاقْتَسِمُوْهُ عَلَي کِتَابِ اﷲِ. قَالَتْ عَائِشَةُ رضي اﷲ عنها : فَقُلْتُ : يَاأَبَتِ، وَاﷲِ لَوْکَانَ کَذَا وَکذَا لَتَرَکْتُهُ إِنَّمَا هِيَ أَسْمَاءُ فَمَنِ الْأُخْرَي؟ فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ رضي الله عنه : ذُوْبَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ أَرَاهَا جَارِيَةً فَوَلَدَتْ أُمَّ کُلْثُوْمٍ. رَوَاهُ مَالِکٌ وَالطَّحَاوِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ .

أخرجه مالک في الموطأ، کتاب : الأقضية، باب : مالايجوز من النحل، 2 / 752، الرقم : 1438، والبيهقي في السنن الکبري، 6 / 169، الرقم : 11728، 12267، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4 / 88، واللالکائي في کرامات الأولياء، 1 / 177، الرقم : 62، والعسقلاني في الإصابة، 7 / 575، الرقم : 11023، والنووي في تهذيب الأسماء، 2 / 574، الرقم : 1030، 1239، والزيلعي في نصب الراية، 4 / 122، وأبو جعفر الطبري في الرياض النضرة، 2 / 123، 257، وابن سعد في الطبقات الکبري، 3 / 194.


’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مبارکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے غابہ (نامی وادی) میں انہیں کھجور کے چند درخت ہبہ کیے جن میں سے بیس وسق کھجوریں آتی تھیں۔ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : اے میری پیاری بیٹی! ایسا دوسرا کوئی نہیں جس کا اپنے بعد غنی ہونا مجھے تم سے زیادہ پسند ہو اور اپنے بعد مجھے کسی کی مفلسی تم سے زیادہ گراں نہیں۔ میں نے تمہیں کچھ درخت دیئے تھے جن سے بیس وسق کھجوریں آتی تھیں۔ اگر تم نے ان پر قبضہ کیا ہوتا تو وہ تمہارے ہوجاتے۔ اب وہ میراث کا مال ہے اور تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ سو سارے مال کو اﷲ کی کتاب (کے حکم) کے مطابق تقسیم کر لینا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں : میں نے عرض کیا : اباجان! مال خواہ کتنا ہی زیادہ ہوتا میں چھوڑ دیتی لیکن میری بہن تو صرف حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا ہیں دوسری کون ہے؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ بنت خارجہ کے پیٹ میں ہے اور میرے خیال میں وہ لڑکی ہے پھر انہوں نے ام کلثوم (نامی) بیٹی کو جنم دیا۔‘‘



 عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِنْ أَبِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما في رواية طويلة فَدَعَا : (أَي أَبُوْبَکْرٍ رضي اﷲ عنه) بِالطَّّعَامِ فَأَکَلَ وَأَکَلُوْا فَجَعَلُوْا لَا يَرْفَعُوْنَ لُقْمَةً إِلاَّ رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَکْثَرُ مِنْها، فَقَالَ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ، مَاهَذَا؟ قَالَتْ : لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي، لَهِيَ الآنَ أَکْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِکَ بِثَلاَثِ مَرَّاتٍ، فَأَکَلُوْا وَبَعَثَ بِهَا إِلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَأَنَّهُ أَکَلَ مِنْهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : مواقيت الصلاة، باب : السَّّمَرِ مَعَ الضَّيفِ وَالأهلِ، 1 / 216، الرقم : 577
وفي کتاب : المناقب، باب : علامات النبوة في الإسلام، 3 / 1312، الرقم : 3388، وفي کتاب : الأدب، باب : مايُکره من الغضب والجزع عند الضيف، 5 / 2274، الرقم : 5789، وفي کتاب : الأدب، باب : قول الضيف لصاحبه : لاَ آکُلُ حَتَّي تَاکُلَ، 5 / 2274، الرقم : 5790، ومسلم في الصحيح، کتاب : الأشربة، باب : إکرام الضيف وفضل إيثاره، 3 / 1627، الرقم : 2057، والبزار في المسند، 6 / 228، الرقم : 2263، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 197، الرقم : 1702، 1712.


’’حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اﷲ عنھما سے ایک طویل واقعہ میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام (اصحاب صفہ) کی دعوت کی، (اور ان کے ساتھ) آپ نے خود بھی کھانا کھایا اور دوسروں نے بھی۔ ہر لقمہ اٹھانے کے بعد کھانا پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے (اپنی بیوی سے جو بنی فراس کے قبیلہ سے تھیں) فرمایا : اے ہمشیرہ بنی فراس! یہ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا : اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک (میرے سرتاج) اس وقت تو یہ کھانا پہلے سے تین گناہ زیادہ ہے چنانچہ ان سب صحابہ نے بھی خوب کھایا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھی روانہ کیا جسے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی تناول فرمایا۔‘‘