Sunday, 22 April 2018

Khawarij Muslmanu pr Shirk Ka Fatawa Lagaein Gy Jabkeh Wo Khud Mushrik Hungay ( Hadith )

خوارج مسلمانوں پر شرک کا فتوی لگائیں گے جبکہ وہ خود مشرک ہونگے

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْکُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّی إِذَا رُئِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ وَکَانَ رِدْئًا لِلْإِسْلَامِ غَيْرَهُ إِلَی مَا شَاءَ اﷲُ فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَهُ وَرَائَ ظَهْرِهِ وَسَعٰی عَلَی جَارِهِ بِالسَّيْفِ وَرَمَاهُ بِالشِّرْکِ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اﷲِ، أَيُّهُمَا أَوْلَی بِالشِّرْکِ الْمَرْمِيُّ أَمِ الرَّامِي قَالَ : بَلِ الرَّامِي.

1. ابن حبان، الصحيح، 1 : 282، رقم : 81

2. بزار، المسند، 7 : 220، رقم : 2793
3. بخاری، التاريخ الکبير، 4 : 301، رقم : 2907
4. طبراني، المعجم الکبير، 20 : 88، رقم : 169 (عن معاذ بن جبل ص)


’’بے شک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ یہ کہ ایک ایسا آدمی ہوگا (یعنی کچھ لوگ ایسے ہوں گے) جس نے قرآن پڑھا یہاں تک کہ اس پر قرآن کا جمال آگیا۔ سو جب تک اﷲ نے چاہا وہ اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا رہا۔ بالآخر وہ قرآن سے دور ہوگیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا، اس پر شرک کا الزام لگایا (اور اس بنا پر اس کے قتل کے درپے ہوگیا)۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اﷲ کے نبی! ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب ہوگا، شرک کا الزام لگانے والا یا جس پر شرک کا الزام لگایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شرک کا الزام لگانے والا (خود شرک کے قریب ہوگا)۔‘‘

Kharji Log Tamam Makhloq Mein Say Bad-tareen Log Hein ( Hadiths + Muhadiths Qaols )


خوارج کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں صحابہ و تابعین نے تمام مخلوق میں بدترین طبقہ قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں بعض روایات درج ذیل ہیں :

أخرج البخاري في صحيحه في ترجمة الباب : قَوْلُ اﷲِ تَعَالَی : ﴿وَمَا کَانَ اﷲُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّی يُبَيِّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُوْنَ﴾وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما يَرَاهُمْ شِرَارَ خَلْقِ اﷲِ، وَقَالَ : إِنَّهُمُ انْطَلَقُوْا إِلَی آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَجَعَلُوْهَا عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ.

التوبة، 9 : 115

وقال العسقلاني في الفتح : وصله الطبري في مسند علي من تهذيب الآثار من طريق بکير بن عبد اﷲ بن الأشج : أَنَّهُ سَأَلَ نَافِعًا کَيْفَ کَانَ رَأَی ابْنُ عُمَرَ فِي الْحَرُوْرِيَّةِ؟ قَالَ : کَانَ يَرَاهُمْ شِرَارَ خَلْقِ اﷲِ، انْطَلَقُوْا إِلَی آيَاتِ الْکُفَّارِ فَجَعَلُوْهَا فِي الْمُؤْمِنِيْنَ.

قلت : وسنده صحيح، وقد ثبت في الحديث الصحيح المرفوع عند مسلم من حديث أبي ذرص في وصف الخوارج : هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ. وعند أحمد بسند جيد عن أنس مرفوعًا مثله.

وعند البزار من طريق الشعبي عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : ذَکَرَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم الْخَوَارِجَ فَقَالَ : هُمْ شِرَارُ أُمَّتِي يَقْتُلُهُمْ خِيَارُ أُمَّتِي. وسنده حسن.

وعند الطبراني من هذا الوجه مرفوعا : هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ يَقْتُلُهُمْ خَيْرُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ. وفي حديث أبي سعيد رضی الله عنه عند أحمد : هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ.

وفي رواية عبيد اﷲ بن أبي رافع عن علي رضی الله عنه عند مسلم : مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اﷲِ إِلَيْهِ.

وفي حديث عبد اﷲ بن خباب رضی الله عنه يعني عن أبيه عند الطبراني : شَرُّ قَتْلَی أَظَلَّتْهُمُ السَّمَاءُ وَأَقَلَّتْهُمُ الْأَرْضُ. وفي حديث أبي أمامة رضی الله عنه نحوه.

وعند أحمد وابن أبي شيبة من حديث أبي برزة مرفوعًا في ذکر الخوارج : شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ يَقُولُهَا ثَلَاثًا.

وعند ابن أبي شيبة من طريق عمير بن إسحاق عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه : هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ. وهذا مما يؤيد قول من قال بکفرهم.

1. بخاری، الصحيح، کتاب، استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539
2.مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب الخوارج شر الخلق والخليقة، 2 : 750، الرقم : 1067
3. أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765
4. نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب من شهر سيفه ثم وضعه في الناس، 7 : 119، 120، رقم : 4103
5. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 15، 224، رقم : 11133
6. ابن أبي شيبة، المصنف، 7 : 557، 559، رقم : 37905
7. بزار، المسند، 9 : 294، 305، رقم : 3846
8. طبراني، المعجم الأوسط، 6 : 186، رقم : 6142
9. طبراني، المعجم الأوسط، 7 : 335، الرقم : 7660
10. طبرانی، المعجم الصغير، 1 : 42، رقم : 33
11. عسقلاني، فتح الباری، 12 : 286، رقم : 6532


’’امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب کے عنوان کے طور پر یہ حدیث روایت کی ہے : اﷲ تعاليٰ کا فرمان ہے : (اور اﷲ کی شان نہیں کہ وہ کسی قوم کو گمراہ کر دے۔ اس کے بعد کہ اس نے انہیں ہدایت سے نواز دیا ہو، یہاں تک کہ وہ ان کے لئے وہ چیزیں واضح فرمادے جن سے انہیں پرہیز کرنا چاہئے۔) حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما ان (خوارج) کو اﷲ تعاليٰ کی بد ترین مخلوق سمجھتے تھے (کیونکہ) انہوں نے اﷲ تعاليٰ کی ان آیات کو لیا جو کفار کے حق میں نازل ہوئی تھیں اور ان کا اطلاق مومنین پر کرنا شروع کر دیا تاکہ اہلِ ایمان کو کافر و مشرک قرار دے سکیں۔

’’امام عسقلانی فتح الباری میں بیان کرتے ہیں کہ امام طبری نے اس حدیث کو تہذیب الآثار میں بکیر بن عبد اﷲ بن اَشج کے طریق سے مسند علی رضی اللہ عنہ میں شامل کیا ہے کہ ’’انہوں نے نافع سے پوچھا کہ عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کی حروریہ (خوارج) کے بارے میں کیا رائے تھی؟ انہوں نے فرمایا : وہ انہیں اﷲ تعاليٰ کی بدترین مخلوق خیال کیا کرتے تھے جنہوں نے اﷲ تعاليٰ کی ان آیات کو لیا جو کفار کے حق میں نازل ہوئی تھیں اور ان کا اطلاق مومنین پر کیا۔

’’مزید برآں امام عسقلانی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں : اس حدیث کی سند صحیح ہے اور یہ سند حدیث صحیح مرفوع میں

 امام مسلم کے ہاں ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خوارج کے وصف والی حدیث سے بھی ثابت ہے اور وہ حدیث یہ ہے کہ ’’وہ تمام مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔‘‘ اور امام احمد بن حنبل کے ہاں بھی اسی کی مثل حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی مرفوع حدیث ثابت ہے۔

’’امام بزار، شعبی سے اور وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوارج کا ذکر کیا اور فرمایا : ’’وہ میری امت کے بد ترین لوگ ہیں اور انہیں میری امت کے بہترین لوگ قتل کریں گے۔‘‘ اور اس حدیث کی سند حسن ہے۔

’’امام طبرانی کے ہاں اسی طریق سے مرفوع حدیث میں مروی ہے کہ ’’خوارج تمام مخلوق میں سے بد ترین ہیں اور ان کو (اُس دور کے) بہترین لوگ قتل کریں گے۔‘‘

’’امام احمد بن حنبل کے ہاں حضرت ابو سعید والی حدیث میں ہے کہ خوارج مخلوق میں سب سے بدترین لوگ ہیں۔

’’امام مسلم نے عبیداﷲ بن ابی رافع کی روایت میں بیان کیا ہے جو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہ (خوارج) اﷲ تعاليٰ کی مخلوق میں سے اس کے نزدیک سب سے بدترین لوگ ہیں۔

’’امام طبرانی کے ہاں عبد اﷲ بن خباب والی حدیث میں ہے جو کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ’’یہ (خوارج) بدترین مقتول ہیں جن پر آسمان نے سایہ کیا اور زمین نے ان کو اٹھایا۔‘‘ اور ابو امامہ والی حدیث میں بھی یہی الفاظ ہیں۔

’’امام احمد بن حنبل اور ابن ابی شیبہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو مرفوعاً خوارج کے ذکر میں بیان کرتے ہیں کہ ’’خوارج، مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔‘‘ ایسا تین بار فرمایا۔

’’اور ابن ابی شیبہ، عمر بن اسحاق کے طریق سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’خوارج بد ترین مخلوق ہیں۔‘‘ اور یہ وہ چیز ہے جو اس شخص کے قول کی تائید کرتی ہے جو ان کو کافر قرار دیتا ہے۔‘‘

Hazoor SalaAllah ho Alaihi WaAlehi Waslam ki Taqseem mein Farq krny walay Kharji thy ( Hadith )

امام احمد اور امام نسائی حضرت شریک بن شہاب رضی اللہ عنہ سے صحیح حدیثِ مبارکہ میں روایت کرتے ہیں :

’’مجھے اس بات کی شدید خواہش تھی کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے ملوں اور ان سے خوارج کے متعلق دریافت کروں۔ اتفاقاً میں نے عید کے روز حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو ان کے کئی دوستوں کے ساتھ دیکھا تو میں نے ان سے دریافت کیا : کیا آپ نے خارجیوں کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ آپ نے فرمایا : ہاں، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور آنکھوں سے دیکھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں کچھ مال پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مال کو ان لوگوں میں تقسیم فرما دیا جو دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے، اور جو لوگ پیچھے بیٹھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کچھ عنایت نہ فرمایا۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا، اے محمد! آپ نے تقسیم میں عدل نہیں کیا۔ وہ شخص سیاہ رنگ، سر منڈا اور سفید کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید ناراض ہوئے اور فرمایا : خدا کی قسم! تم میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی شخص کو انصاف کرنے والا نہ پاؤگے، پھر فرمایا : آخری زمانے میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے یہ شخص بھی انہیں لوگوں میں سے ہے۔ وہ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ سرمنڈے ہوں گے، یہ ہمیشہ نکلتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔ جب تمہارا (میدان جنگ میں) ان سے سامنا ہو تو انہیں قتل کردو۔ وہ تمام مخلوق سے بدترین ہیں۔‘‘


1. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 421
2. نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب من شهر سيفه ثم وضعه في الناس، 7 : 119، رقم : 4103
3. نسائي، السنن الکبری، 2 : 312، رقم : 3566 
4. بزار، المسند، 9 : 294، رقم : 3846
5. طيالسي، المسند، 1 : 124، رقم : 923

Saturday, 21 April 2018

Khawarij Jahanam Ky Kutty Hungy ( Hadiths )

’’خوارج جہنم کے کتّے ہوں گے‘‘

انسانوں کے قتل عام اور سفاکانہ دہشت گردی کی پاداش میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوارج کو جہنم کے کتے قرار دیا ہے۔

1۔ سنن ترمذی میں امام ابو غالب نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے :

فَقَالَ أَبُوْ أُمَامَةَ رضی الله عنه : کِلَابُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ أَدِيْمِ السَّمَائِ خَيْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوْهُ ثُمَّ قًرَأَ : ﴿يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ﴾ إِلَی آخِرِ الآيَةِ قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ؟ قَالَ : لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا حَتَّی عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُکُمُوْهُ.

1. ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000
2. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 256، رقم : 22262
3. حاکم، المستدرک، 2 : 163، رقم : 2655
4. بيهقي، السنن الکبری، 8 : 188
5. طبراني، مسند الشاميين، 2 : 248، رقم : 1279


’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : (یہ خوارج) جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہیں اور وہ شخص بہترین مقتول ہے جسے انہوں نے قتل کیا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : (جس دن کئی چہرے سفید ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے۔) حضرت ابو غالب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : کیا آپ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا : اگر میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (یہ فرمان) ایک، دو، تین، چار یہاں تک کہ سات بار بھی سنا ہوتا تو تم سے بیان نہ کرتا (یعنی میں نے یہ بات خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعدد بار سنی ہے)۔‘‘

2۔ امام ابن ابی شیبہ، بیہقی اور طبرانی نے حضرت ابو غالب سے روایت کیا کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے خوارج اور حروریہ کے متعلق بیان فرمایا :

کِلَابُ جَهَنَّمَ، شَرُّ قَتْلَی قُتِلُوْا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، وَ مَنْ قَتَلُوْا خَيْرُ قَتْلَی تَحْتَ السَّمَاءِ . . . إلی الآخر.

1. ابن أبي شيبة، المصنف، 7 : 554، رقم : 37892
2. طبراني، المعجم الکبير، 8 : 267، 268، رقم : 8034، 8035
3. بيهقي، السنن الکبری، 8 : 188


’’یہ جہنم کے کتے ہیں اور زیرِ آسمان تمام مقتولوں سے بدترین مقتول ہیں اور ان کے ہاتھوں شہید ہونے والے زیر آسمان تمام شہیدوں سے بہترین شہید ہیں۔‘‘

3۔ سعید بن جہمان بیان کرتے ہیں :

کَانَتِ الْخَوَارِجُ قَدْ تَدْعُوْنِي حَتَّی کِدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فِيْهِمْ، فَرَأَتْ أُخْتُ أَبِي بِلاَلٍ فِي النَّوْمِ أَنَّ أَبَا بِلاَلٍ کَلْبٌ أَهْلَبُ أَسْوَدُ عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ. فَقَالَتْ 
: بِأَبِي أَنْتَ يَا أَبَا بِلَالٍ مَا شَأْنُکَ أَرَاکَ هَکَذَا؟ فَقَالَ : جُعِلْنَا بَعْدَکُمْ کِلَابَ أَهْلِ النَّارِ، وَکَانَ أَبُوْ بِلاَلٍ مِنْ رُؤُوْسِ الْخَوَارِجِ.

1. ابن أبي شيبة، المصنف، 7 : 555، رقم : 37895
2. عبد اﷲ بن أحمد، السنة، 2 : 634، رقم : 1509


’’خوارج مجھے (اپنی طرف) دعوت دیا کرتے تھے (سو اس دعوت سے متاثر ہو کر) قریب تھا کہ میں ان کے ساتھ شامل ہو جاتا کہ ابو بلال (خارجی) کی بہن نے خواب دیکھا کہ ابو بلال کالے لمبے بالوں والے کتے کی شکل میں ہے، اس کی آنکھیں بہہ رہی تھیں۔ بیان کیا کہ اس نے کہا : اے ابو بلال! میرا باپ تجھ پر قربان! کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس حال میں دیکھ رہی ہوں؟ اس نے کہا : ہم لوگ تمہارے بعد دوزخ کے کتے بنا دیے گئے ہیں۔ ابو بلال خارجیوں کے سرداروں میں سے تھا۔‘‘

Kharji Gharohu ki Zahiri Deen Dari say Dhoka Na Khaya Jay ( Hadiths )

’’خارجی گروہوں کی ظاہری دین داری سے دھوکہ نہ کھایا جائے‘‘


خوارج تلاوت قرآن اور نماز روزہ کے سخت پابند تھے، ان کی گفتگو میں دنیا کی بے ثباتی، زہد و تقويٰ کی ترغیب و تحریص، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بہت زیادہ اہتمام اور امارت اور عہدہ قبول کرنے سے ہر ایک کا عذر و گریز ایسے اُمور ہیں کہ ان امور کا پایا جانا کسی بھی شخص کو ظاہراً دین دار بلکہ متقی اور مجاہد سمجھنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ جیسا کہ امام ابن ماجہ اور احمد بن حنبل حضرت ابو سلمہ سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابو سلمہ نے بیان کیا ہے :

1. قُلْتُ لِأَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه : هَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَذْکُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا؟ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ يَذْکُرُ قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ (وفي رواية أحمد : يَتَعَمَّقُوْنَ فِي الدِّيْنِ) يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصَومَهُ مَعَ صَومِهِمْ.


1. ابن ماجه، السنن، المقدمة، باب في ذکر الخوارج، 1 : 60، رقم : 169
2. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 33، رقم : 11309

3. ابن أبي شيبة، المصنف، 7 : 557، رقم : 37909

’’میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حروریہ (یعنی خوارج) کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا : (ہاں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کا ذکر فرمایا جو خوب عبادت کرے گا، (امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ وہ دین میں انتہائی پختہ نظر آئیں گے) (یہاں تک کہ) تم اپنی نمازوں اور روزوں کو ان کی نمازوں اور روزوں کے مقابلہ میں کمتر سمجھوگے۔‘‘

یہی سبب ہے کہ خود کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کے معاملے میں شبہ وارد ہوتا تھا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جیسے شخص کہتے ہیں کہ ایسے زاہد و عابد لوگ میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ جیسا کہ امام حاکم اور نسائی کی بیان کردہ درج ذیل روایت میں بیان ہوا ہے :

2. قال عبد اﷲ بن عباس : فأتيتهم وهم مجتمعون فی دارهم قائلون، فسلمت عليهم. فقالوا : مرحبا بک يا ابن عباس. قال ابن \
عباس : وأتيت قومًا لم أر قومًا قط أشد اجتهادًا منهم مسهمة وجوهم من السهر کأن أيديهم ورکبهم تثنی عليهم.

1. حاکم، المستدرک، 2 : 164، رقم : 2656
2. نسائی، السنن الکبريٰ، 5 : 165، رقم : 8575

3. عبد الرزاق، المصنف، 10 : 158
4. طبرانی، المعجم الکبير، 10 : 257، رقم : 10598
5. بيهقی، السنن الکبری، 8 : 179


’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے) ان کے پاس ایک گھر میں گیا جہاں وہ سب جمع تھے۔ میں نے ان پر سلام کیا۔ انہوں نے اس کے جواب میں کہا : مرحبا! اے ابن عباس (یعنی صحابی رسول کو جواباً وعلیکم السلام بھی نہ کہا)۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ان لوگوں سے زیادہ عبادت میں مجاہدہ کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ ان کے چہرے زیادہ جاگنے کی وجہ سے سوکھ گئے تھے اور ہاتھ پاؤں ٹیڑھے معلوم ہوتے تھے۔‘‘

3۔ خوارج کی کثرت عبادت و ریاضت کا حال حضرت جندب رضی اللہ عنہ اس طرح بیان فرماتے ہیں :

لما فارقت الخوارج عليًّا خرج فی طلبهم وخرجنا معه، فانتهينا إلی عسکر القوم فإذا لهم دوي کدوي النحل من قراء ة القرآن، وفيهم أصحاب الثفنات وأصحاب البرانس، فلما رأيتهم دخلني من ذلک شدة فتنحيت فرکزت رمحي ونزلت عن فرسي ووضعت برنسي، فنشرت عليه درعي، وأخذت بمقود فرسي فقمت أصلي إلی رمحي وأنا أقول فی صلاتي : اللهم إن کان قتال هؤلاء القوم، لک طاعة فإذن لي فيه، وإن کان معصية فأرني براء تک.

1. طبرانی، المعجم الأوسط، 4 : 227، رقم : 4051
2. هيثمی، مجمع الزوائد، 4 : 227

3. عسقلانی، فتح الباری، 12 : 296
4. شوکانی، نيل الأوطار، 7 : 349


’’جب خوارج علیحدہ ہو گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے تعاقب میں نکلے تو ہم بھی ساتھ تھے۔ جب ہم خوارج کے لشکر کے قریب پہنچے تو قرآن مجید پڑھنے کا ایک شور سنائی دیا۔ ان خوارج کی یہ حالت تھی کہ تہبند بندھے ہوئے، ٹوپیاں اوڑھے ہوئے کمال درجہ کے زاہد و عابد نظر آتے تھے۔ ان کا یہ حال دیکھ کر ان سے قتال مجھ پر نہایت شاق ہوا۔ میں نے ایک طرف نیزہ گاڑ کر ٹوپی اور زرہ اس پر لگا دی اور گھوڑے سے اتر کر نیزہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شروع کی اور اس میں یہ دعا کی : ’’الٰہی! اگر اس گروہ کا قتل کرنا تیری طاعت ہے تو مجھے اجازت مل جائے اور اگر معصیت ہے تو مجھے اس رائے پر آگاہی نصیب ہوجائے۔‘‘

حضرت جندب رضی اللہ عنہ پر خوارج کے ظاہری زہد و عبادت اور تدین کا اتنا اثر تھا کہ ان کے ساتھ جنگ کرنے میں بھی متردد تھے۔ انہوں نے بالآخر اسی لمحہ سیدنا علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ اور پیشین گوئیاں سنیں جو درست ثابت ہوئیں۔ اس سے ان کو شرح صدر نصیب ہوگیا کہ یہ ہلاک کیے جانے کے ہی مستحق ہیں۔

دور حاضر کے خوارج ظاہری لحاظ سے بڑے متقی و پرہیزگار نظر آتے ہیں، مگر اپنی باطنی کیفیت، دین دشمن کارروائیوں اور ناحق قتل و غارت گری و دہشت گردی کے پیش نظر احادیث میں انہیں سب سے بڑا فتنہ اور بدترین مخلوق قرار دیا گیا ہے۔ وہ بے شک قرآن مجید کی آیات پڑھتے ہیں مگر کافروں کے بارے میں وارد ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کرتے ہیں۔ اپنی نام نہاد فکر کی بناء پر مسلمانوں کو کافر بنا کر ان کے قتل کا جواز بناتے ہیں۔

Khawarij Deen-e-Islam say Kharij Hungy ( Hadiths )

’’خوارج دین سے خارج ہوں گے‘‘

1۔ امام بخاری سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمای :

يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066
3. نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب من شهر سيفه ثم وضعه في الناس، 7 : 119، رقم : 4102
4. ابن ماجه، السنن، المقدمة، باب في ذکر الخوارج، 1 : 59، رقم : 168
5. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 81، 113، 131، رقم : 616، 912، 1086


’’خوارج دین سے یوں خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘

2۔ سنن ترمذی میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

يَمْرُقُوْنَ مِنَ الِإسْلَامِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.

ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب في صفة المارقة، 4 : 481، رقم : 2188

امام ترمذی نے السنن میں اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : یہ روایت حضرت علی، حضرت ابو سعید اور حضرت ابو
 ذر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
’’خوارج دین سے یوں خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘

علامہ بدر الدین العینی مذکورہ بالا احادیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

قوله صلی الله عليه وآله وسلم : ’’يمرقون من الدين‘‘ من المروق وهو الخروج. يقال : مرق من الدين مروقاً خرج منه ببدعته وضلالته. وفي رواية سويد بن غفلة عند النسائي والطبري : يمرقون من الإسلام، وفي رواية للنسائي : يمرقون من الحق.

بدر الدين عينی، عمدة القاری، 16 : 209

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ’’وہ دین سے خارج ہو جائیں گے۔‘‘ یمرقون کا لفظ مروق سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے : باغی ہونا؛ خارج ہوجانا۔ جس طرح کہا جاتا ہے : وہ اپنی بدعت و ضلالت کے سبب دین سے خارج ہو گیا۔ 

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں امام نسائی اور امام طبری سے یہ الفاظ مروی ہیں : وہ اسلام سے خارج
 ہو جائیں گے۔ امام نسائی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں : وہ حق سے خارج ہو جائیں گے۔‘‘

علامہ انور شاہ کشمیری مروق کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

المروق هو الخروج من حيث لا يدري.

شبير احمد عثمانی، فتح الملهم، 5 : 168

’’مروق سے مراد ایسا خروج ہے جس میں کوئی پختہ سوچ سمجھ شامل نہ ہو (یعنی جدھر منہ اٹھایا چل پڑے)۔‘‘
اِس مضمون پر مشتمل درجنوں احادیث صحاحِ ستہ میں وارد ہوئی ہیں

Friday, 20 April 2018

Khawarij Aam Muslamanu ko Ghumrah Krein Gy or Kehy Gy keh Hukam Sirf Allah Ka ( Tehqiq by Hadiths )

’’خوارج کا نعرہ عامۃ الناس کو حق محسوس ہوگا‘‘
خوارج عامۃ الناس کو گمراہ کرنے اور ورغلانے کے لئے بظاہر اسلام کا نعرہ بلند کریں گے لیکن ان کی نیت بری ہوگی۔ احادیث مبارکہ کی روشنی میں ان کی بظاہر اسلام پر مبنی باتوں اور ظاہری وضع قطع اور دین داری کو دیکھ کر دھوکا نہ کھایا جائے کیونکہ ان کا یہ مذہبی نعرہ اور عبادت گذاری در حقیقت امت مسلمہ میں مغالطہ، اِبہام اور افتراق و انتشار پیدا 
کرنے کے لئے ہوگا

1۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
 وسلم نے ارشاد فرمایا :
يَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066


’’وہ لوگوں کے سامنے (دھوکہ دہی کے لئے) ’’اسلامی منشور‘‘ پیش کریں گے۔‘‘

حافظ ابن حجر عسقلانی، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ’’یقولون من قول خیر البریۃ‘‘ کی شرح میں
 لکھتے ہیں :

أی : من القرآن، وکان أوّل کلمة خرجوا بها قولهم : لا حکم إلا ﷲ، وانتزعوها من القرآن، وحملوها علی غير محملها.

عسقلانی، فتح الباری، 6 : 619

’’(اِن کلمات کا مطلب ہے کہ) خوارج اپنے موقف کی تائید میں قرآن پیش کریں گے۔ اِسی لیے سب سے پہلا نعرہ جو اُن کی زبانوں سے بلند ہوا اس کے الفاظ یہ تھے : اﷲ کے علاوہ کسی کا حکم (قبول) نہیں (یعنی انہوں نے اپنا منشور اسلامی لبادے میں پیش کیا تھا)۔ انہوں نے یہ جملہ قرآن حکیم سے اخذ کیا لیکن اس کا اطلاق اس سے ہٹ کر کیا۔‘‘

علامہ عبد الرحمن مبارک پوری نے جامع الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی میں بھی یہی معنی بیان کیا ہے۔

مبارک پوری، تحفة الأحوذی، 6 : 354

2۔ امام مسلم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت عبید اللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :

أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اﷲُ عَنْهُ، قَالُوا : لَا حُکْمَ إِلَّاِﷲِ. قَالَ عَلِيٌّ : کَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيْدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ يَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوْزُ هَذَا مِنْهُمْ وَأَشَارَ إِلَی حَلْقِهِ، مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اﷲِ إِلَيْهِ مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَی يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْیٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اﷲُ عَنْهُ قَالَ : انْظُرُوا، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوْا شَيْئًا. فَقَالَ : ارْجِعُوا فَوَاﷲِ، مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ وَجَدُوْهُ فِي خَرِبَةٍ فَأَتَوْا بِهِ حَتَّی 
وَضَعُوْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ. قَالَ عُبَيْدُ اﷲِ : وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِکَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ.

1. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 749، رقم : 1066
2. نسائي، السنن الکبری، 5 : 160، رقم : 8562
3. ابن حبان، الصحيح، 15 : 387، رقم : 6939


’’جس وقت حروریہ نے مسلح جد و جہد کا آغاز کیا اُس سے قبل وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا : اللہ کے سوا کوئی حُکم نہیں کر سکتا، حضرت علی رضی اللہ عنہ : نے فرمایا : بات تو حق ہے مگر اس سے مقصود باطل ہے۔ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کے متعلق فرمایا تھا جن کی نشانیاں میں اِن لوگوں میں بخوبی دیکھ رہا ہوں، وہ اپنی زبانوں سے دین حق کی بات کہتے ہیں اور حق اس سے (یعنی ان کے حلق سے) متجاوز نہیں ہوتا۔ آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا اور کہا : یہ لوگ اللہ کی مخلوق میں مبغوض ترین ہیں۔ ان میں سے ایک شخص سیاہ رنگ کا ہے جس کا ہاتھ بکری کے تھن یا عورت کے پستان کے سر کی طرح ہے۔ جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ انہیں قتل کر چکے تو فرمایا : اس آدمی کی تلاش کرو، انہوں نے اسے ڈھونڈا مگر وہ نہ ملا، فرمایا : اس کو پھر جا کر تلاش کرو، بخدا نہ میں نے جھوٹ بولا ہے نہ مجھے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے) جھوٹ بتایا گیا ہے، یہ بات انہوں نے دو یا تین بار کہی، حتيٰ کہ لوگوں نے اسے بالآخر ایک کھنڈر میں ڈھونڈ لیا اور اس کی لاش لا کر حضرت علی کے سامنے رکھ دی۔ عبید اللہ کہتے ہیں : میں اس سارے معاملہ کا عینی گواہ ہوں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ان خوارج کے بارے میں ہی تھا۔‘‘

امام یحیيٰ بن شرف نووی شرح صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول’’کَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيْدَ بِهَا بَاطِلٌ‘‘ کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

معناه أن الکلمة أصلها صدق، قال اﷲ تعالی : ﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلَّاِﷲِ﴾(1) لکنهم أرادوا بها الإنکار علی علي رضی الله عنه في تحکيمه.(2)

(1) الأنعام، 6 : 57
(2) نووی، شرح صحيح مسلم، 7 : 173، 174


’’اس کا معنی یہ ہے کہ اصلاً یہ کلمہ سچا ہے، اﷲ تعاليٰ کا فرمان ہے : (حکم صرف اللہ ہی کا ہے)۔ لیکن انہوں نے اس نعرہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم کو رد کرنے کے لئے استعمال کیا (یہ باطل ہے)۔‘‘

علامہ شبیر احمد عثمانی نے بھی ’’فتح الملھم (5 : 169)‘‘ میں مذکورہ کلمات کی یہی شرح بیان کی ہے۔
ایک دوسری روایت میں طارق بن زیاد بیان کرتے ہیں :

خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رضی الله عنه إِلَی الْخَوَارِجِ فَقَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَالَ : انْظُرُوْا فَإِنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّهُ سَيَخْرُجُ قَومٌ 
يَتَکَلَّمُونَ بِالْحَقِّ لاَ يُجَاوِزُ حَلْقَهُمْ.

1. نسائي، السنن الکبری، 5 : 161، رقم : 8566
2. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 107، رقم : 848


’’ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج کی طرف (ان سے جنگ کے لیے) نکلے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کا خاتمہ کیا پھر فرمایا : دیکھو بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عنقریب ایسے لوگ نکلیں گے کہ حق کی بات کریں گے لیکن وہ کلمۂِ حق ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔‘‘
ان احادیثِ مبارکہ سے پتہ چلا کہ خوارج اپنے انتہا پسندانہ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے نعرہء حق لگاتے ہیں لیکن در حقیقت اس کے پیچھے ان کے مذموم مقاصد ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بے نقاب کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ لوگ ان کے اچھے نعروں کی وجہ سے گمراہ نہ ہوں۔